Jamaat-E-Islami KPK North

تعارف

تاسیسِ جماعت

جماعت اسلامی پاکستان ملک کی سب بڑی اور پرانی اسلامی تحریک ہے۔ جس کا آغاز بیسویں صدی کے اسلامی مفکر سید ابوالاعلیٰ مودودی نے عصر حاضر میں اسلامی نظام کے احیاء کے لیے کیاتھا۔ قیام پاکستان سے قبل 3 شعبان 1360ھ (بمطابق 26 اگست1941ء) کو جماعت اسلامی قیام پذیر ہوئی اور یکم جون 1957ء بمطابق 2 ذی القعدہ 1376ھ کو اس کا دستور نافذ العمل ہوا۔

Our value

Qualified and ready for leadership

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Ut elit tellus, luctus nec ullamcorper mattis, pulvinar dapibus leo.

Vision

Suspendisse erat dignissim ac porta metus accumsan habitasse eu turpis leo aenean

Mission

Suspendisse erat dignissim ac porta metus accumsan habitasse eu turpis leo aenean

Motto

Suspendisse erat dignissim ac porta metus accumsan habitasse eu turpis leo aenean

تعارف بانی جماعت سید ابو الاعلیٰ مودودی

پیدائش اور خاندان

سید ابوالاعلٰی مودودی کا سنِ ولادت 1321ھ بمطابق 1903ء ہے۔ جائے پیدائش اورنگ آباد دکن ہےاور آبائی تعلق سادات کے ایک ایسے خاندان سے ہے جو ابتداء میں ہرات کے قریب چشت کے معروف مقام پر آکر آباد ہوا تھا۔ اس خاندان کے ایک مشہور بزرگ خواجہ قطب الدین مودود چشتی تھے جو خواجہ معین الدین چشتی اجمیری کے شیخ الشیوخ تھے۔ سید مودودی کا خاندان خواجہ مودود چشتی کے نامِ نامی سے منسوب ہوکر ہی مودودی کہلا تا ہے۔

انہوں نے جس گھرانے میں آنکھ کھولی وہ ایک مکمل مذہبی گھرانا تھا۔ ان کے والدِ محترم اور والدہ ماجدہ دونوں کی زندگی مذہبی رنگ میں رنگی ہوئی تھی۔ سید مودودی کی تربیت ان کے والد نے خاص توجہ سے کی۔ وہ انہیں مذہبی تعلیم خود دیتے تھے۔

اردو، فارسی اور عربی کے ساتھ ساتھ فقہ اور حدیث کی تعلیم بھی اتالیق کے ذریعے گھر   پر دی جانے لگی۔ تعلیم کے ساتھ اخلا قی اصلاح کا بھی وہ خاص خیال رکھتے تھے۔ اسی لیے سید مودودی کے والد نے انہیں کسی مدرسے میں داخل نہیں کرایا، بلکہ گھر پر ہی پڑھاتے رہے۔

بتدائی دور کے پورے گیارہ برس انہوں نے اپنے بیٹے کو براہِ راست اپنی نگرانی میں رکھااور کسی مکتب یا مدرسہ میں بھیجنا گوارہ  نہ کیا بلکہ ان کی تعلیم کا گھر پر ا تالیق رکھ کا انتظام کیا تاکہ مدرسے اور اسکول میں زمانے کی بگڑی ہوئی رو سے وہ اپنے بچے کو بچا سکیں

بنیادی عقیدہ

دستور جماعت کے مطابق جما عت اسلامی کا بنیادی عقیدہ  لا اِلٰہَ اِلا اللہُ محمد رَّسُولُ اللہ ہے۔ اس عقیدے کے پہلے جزو یعنی اللہ کے واحد الہٰ ہونے اور کسی دوسرے کے الہٰ نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ زمین اور آسمان اور جو کچھ آسمان و زمین میں ہے، سب کا خالق، پروردگار، مالک اور تکوینی و تشریعی حاکم صرف اللہ ہے، ان میں سے کسی حیثیت میں بھی کوئی اس کا شریک نہیں ہے۔

ہماری دعوت کیاہے؟

ہماری دعوت کے متعلق عام طور پر جو بات کہی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ ہم حکومت الہٰیہ کے قیام کی دعوت دیتے ہیں۔ حکومت الہٰیہ کالفظ کچھ تو خود غلط فہمی پیدا کرتا ہے اور کچھ اسے غلط فہمی پیدا کرنے کا ذریعہ بنایا جاتا ہے۔ لوگ یہ سمجھتے ہیں اور انہیں ایسا سمجھایا بھی جاتا ہے کہ حکومت الہٰیہ سے مراد محض ایک سیاسی نظام ہے اور ہماری غرض اس کے سوا اور کچھ نہیں ہے کہ موجودہ نظام کی جگہ وہ مخصوص سیاسی نظام قائم ہو۔ پھر چونکہ اس سیاسی نظام کے چلانے والے لامحالہ ہی مسلمان ہوں گے جو اس کے قیام کی تحریک میں حصہ لے رہے ہوں، اس لیے خود بخود اس تصور میں سے یہ معنی نکل آتے ہیں یا ہوشیاری سے نکال لیے جاتے ہیں کہ ہم محض حکومت چاہتے ہیں۔ اس کے بعد ایک دین دار وعظ ہوتا ہے اور ہم سے کہا جاتا ہے کہ تمہارے پیش نظر محض دنیا ہے۔ حالانکہ مسلمان کے پیش نظر دین اور آخرت ہونی چاہیئے اوریہ کہ حکومت طلب کرنے کی چیز نہیں ہے بلکہ ایک انعام ہے جو دین دار زندگی کے صلے میں اللہ کی طرف سے مل جاتا ہے۔ یہ باتیں کہیں تو نافہمی کے ساتھ کی جاتی ہیں اور کہیں نہایت ہوش مندی کے ساتھ اس غرض کے لیے کہ اگر ہمیں نہیں تو کم سے کم خلق خدا کے ایک بڑے حصے کو بد گمانیوں اور غلط فہمیوں میں مبتلا کیا جائے، حالانکہ اگر کوئی شخص ہمارے لٹریچر کو کھلے دل کے ساتھ پڑھے تو اس پر با آسانی یہ بات کھل سکتی ہے کہ ہمارے پیش نظر صرف ایک سیاسی نظام کا قیام نہیں ہے بلکہ ہم چاہتے ہیں کہ پوری انسانی زندگی….انفرادی اور اجتماعی زندگی….میں وہ ہمہ گیر انقلاب رونما ہو جو اسلام رونما کرناچاہتا ہے، جس کے لیے اللہ نے اپنے انبیاء کو مبعوث کیا تھا اور جس کی دعوت دینے اور جدوجہد کرنے کے لیے ہمیشہ انبیاء علیھم السلام کی امامت و رہنمائی میں امت مسلمہ کے نام سے ایک گروہ بنتا رہا ہے۔

ہمارا تصور دین

دین حق اور اقامت دین کے تصور میں بھی ہمارے اور بعض دوسرے لوگوں کے درمیان اختلاف ہے ہم دین کو محض پوجا پاٹ اور چند مخصوص مذہبی عقائد و رسوم کا مجموعہ نہیں سمجھتے بلکہ ہمارے نزدیک یہ لفظ طریقِ زندگی اور نظامِ حیات کا ہم معنی ہے اور اس کا دائرہ انسانی زندگی کے سارے پہلوؤں اور تمام شعبوں پر حاوی ہے۔ ہم اس بات کے قائل نہیں ہیں کہ زندگی کو الگ لگ حصوں میں بانٹ کر الگ الگ اسکیموں کے تحت چلایا جا سکتاہے۔ ہمارا خیال یہ ہے کہ اس طرح کی تقسیم اگر کی بھی جائے تو وہ قائم نہیں رہ سکتی۔ کیونکہ انسانی زندگی کے مختلف پہلو انسانی جسم کے اعضاء کی طرح ایک دوسرے سے ممّیز ہونے کے باوجود آپس میں اس طرح پیوستہ ہیں کہ و ہ سب مل کر ایک کل بن جاتے ہیں اور ان کے اندر ایک ہی روح جاری و ساری ہوتی ہے۔ یہ روح اگر خدا اور آخرت سے بے نیازی اور تعلیمِ انبیاء سے بے تعلقی کی روح ہو تو پوری زندگی کا نظام ایک دین باطل بن کر رہتا ہے اور اس کے ساتھ خدا پرستانہ مذہب کا ضمیمہ اگر لگا کر رکھا بھی جائے تو مجموعی نظام کی فطرت بتدریج اس کو مضمحل کرتے کرتے آخر کار بالکل محو کر دیتی ہے۔ اور اگر یہ روح خدا اور آخرت پر ایمان اور تعلیمِ انبیاء کے اتباع کی روح ہو تو اس سے زندگی کا پورا نظام ایک دین حق بن جاتا ہے۔ جس کے حدود عمل میں ناخدا شناسی کا فتنہ اگر کہیں رہ بھی جائے تو زیادہ دیر تک پنپ نہیں سکتا۔ اس لئے ہم جب اقامت دین کا لفظ بولتے ہیں تو اس سے ہمارا مطلب محض مسجدوں میں دین قائم کرنا، یا چند مذہبی عقائد اور اخلاقی احکام کی تبلیغ کردینا نہیں ہوتا۔بلکہ اس سے ہماری مراد یہ ہوتی ہے کہ گھر اور مسجد، کالج اور منڈی ، تھانے اور چھاؤنی، ہائیکورٹ اور پارلیمنٹ، ایوان وزارت اور سفارت خانے، سب پر اس ہی ایک خدا کادین قائم کیا جائے جس کو ہم نے اپنا رب اور معبود تسلیم کیا ہے اور سب کا انتظام اسی ایک رسول کی تعلیم کے مطابق چلایا جائے جسے ہم اپنا ہادی برحق مان چکے ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ اگر ہم مسلمان ہیں تو ہماری ہر چیز کو مسلمان ہونا چاہیے۔ اپنی زندگی کے کسی پہلو کو بھی ہم شیطان کے حوالے نہیں کر سکتے۔ ہمارے ہاں سب کچھ خدا کا ہے۔ شیطان یا قیصر کا کوئی حصہ نہیں ہے۔ (جماعت اسلامی کا مقصد ،تاریخ اور لائحہ عمل:ص 3)

ہمارا مسلک

خدا کی بندگی جس پر ہم پورے نظام زندگی کو قائم کرنا چاہتے ہیں، اس کے بارے میں بھی ہمارا ایک واضح مسلک ہے اور وہ مختلف گروہوں کو مختلف وجوہ سے پسند نہیں آتا۔ ہمارے نزدیک ہر شخص اس کا مختار نہیں ہے کہ اپنی مرضی اور خواہش کے مطابق جس طرح چاہے خدا کی بندگی کرے بلکہ اس کی ایک ہی صحیح صورت ہے اور وہ اس شریعت کی پابندی ہے جو محمد ﷺ لے کر آئے ہیں۔ اس شریعت کے معاملے میں کسی مسلمان کے اس حق کو ہم تسلیم نہیں کرتے کہ اس کی جن باتوں کوچاہے قبول کرے اور جن باتوں کو چاہے رد کردے۔ بلکہ ہم اسلام کے معنی ہی اطاعت حکمِ خداوندی اوراتباع شریعتِ محمدی ﷺ کے سمجھتے ہیں۔ شریعت کے علم کا ذریعہ ہمارے نزدیک صرف قرآن پاک نہیں ہے بلکہ حدیث رسولﷺ بھی ہے اور قرآن و حدیث سے استدلال کا صحیح طریقہ ہمارے نزدیک یہ نہیں ہے کہ آدمی اپنے نظریات پر خدا اور رسول کی ہدایات کو ڈھالے بلکہ یہ ہے کہ آدمی اپنے نظریات کو خدا اور رسول کی ہدایات پر ڈھالے پھر ہم نہ تو تقلید جامد کے قائل ہیں جس میں اجتہاد کی جگہ نہ ہو اور نہ ایسے اجتہاد کے قائل ہیں کہ ہر بعد کی نسل اپنے سے پہلے کی نسلوں کے سارے کام پر پانی پھیر دے اور بالکل نئے سرے سے ساری عمارت اٹھانے کی کوشش کرے۔ اس مسلک کا ہر جزو ایسا ہے جس سے ہماری قوم کا کوئی نہ کوئی گروہ ہم سے ناراض ہے۔ کوئی سرے سے خدا کی بندگی کا قائل ہی نہیں ہے۔ کوئی شریعت سے بے نیاز ہو کر اپنی صواب دید کے مطابق خدا کی بندگی کرنا چاہتا ہے۔ کوئی شریعت میں اپنا اختیار چاہتا ہے اور اس کا مطالبہ یہ ہے کہ جوکچھ اسے پسند ہے وہ اس شریت میں رہے اور جو اسے پسند نہیں ہے وہ شریعت سے خارج ہو جائے۔ کوئی قرآن و حدیث سے قطع نظر کر کے اپنے من گھڑت  اصولوں کا نام اسلام رکھے ہوئے ہے کوئی حدیث کو چھوڑ کر صرف قرآن کو مانتا ہے ۔کوئی اصول اور نظریات کہیں باہر سے لے آیا ہے یا اپنے دل سے گھڑ لایا ہے اور پھر زبردستی قرآن و حدیث کے ارشادات کو ان پر ڈھالنے کی کوشش کررہا ہے۔ کسی کوتقلید جامد پر اصرار ہے اور کوئی تمام پچھلے آئمہ کے کارناموں کودریا برد کرکے نیا اجتہاد کرنا چاہتا ہے-